27 اپریل 2012 - 19:30

روس کےوزيرخارجہ سرگئی لاؤروف نےشام کےسلسلےمیں اپنےتازہ ترین موقف میں کہاہے کہ اگرعالمی برادری چین اور روس کےموقف پرتوجہ نہيں دےگی تو روس میں بحران کاحل ناممکن ہوجائےگا۔

ابنا: روسی وزیرخارجہ نےروس کےچینل چوبیس کوانٹرویو دیتے ہوئے کہاہے کہ شام میں مخالفین کےبعض اقدامات کی وجہ سے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہورہی ہےاور اس سلسلےمیں غلطی انھیں کی ہے۔

انھوں نےمزید کہاکہ یہ جنگ بندی اقوام متحدہ کےجنرل سکریٹری بان کی مون کےخصوصی نمائندےکوفی عنان کےمنصوبےکےمطابق انجام پائی ہے جس کی سلامتی کونسل نےبھی حمایت کی ہے۔اس منصوبےمیں حکومت اور باغی گروہوں سےمطالبہ کیاگیاہے کہ ہرطرح کےتشددآمیزاقدامات کوروک دیاجائے لیکن اس جنگ بندی کی اب تک پوری طرح پابندی نہيں کی گئي ہے اوراکثر اس سلسلےميں اکثراوقات باغی گروہ مقصر رہے ہیں۔

سرگئی لاؤروف نےکہاکہ شام میں بعض مسلح جھڑپوں، دھماکوں، اور دہشتگردانہ اقدامات سے سرکاری فوج کومسلسل مشتعل کرنےکی کوشش کررہے ہيں اور ان کامقصد حالات کوخراب کرنا اورشام میں غیرملکی مداخلت کی راہ ہموارکرناہے۔

روس اورچین کی حکومتوں نےکوفی عنان کےمنصوبےکاخیرمقدم کیاہے اوراسے شام میں اختلافات کےسیاسی حل کامناسب راستہ سمجھتے ہيں ۔ لیکن مغربی حکومتیں اورعلاقےميں سعودی عرب ، قطر اورترکی جیسےان کی پیروی کرنےوالےعلاقے کےممالک شام کی حکومت کاتختہ الٹناچاہتےہیں اوریہ کوشش کررہے ہيں کہ حکومت شام کوجنگ بندی کی خلاف ورزی کرنےوالاملک قراردیں تاکہ یہ کہہ سکيں کہ بشاراسدحکومت نےاپنےوعدوں پرعمل نہيں کیااوراس طرح شام میں مداخلت کی زمین ہموارکرناچاہتےہیں ۔حکومت شام نےاب تک کوفی عنان کےمنصوبےپرعمل درآمد کی بھرپورکوشش کی ہے اوراقوام متحدہ کی محافظ امن فوج کاخیرمقدم کیاہے۔

محافظ امن فوج نےاب تک مختلف انٹرویوز میں شام کےتعاون پرشکریہ ادا کیاہے لیکن جنگ بندی کےآغاز سےاب تک دمشق اورشہرحمص میں متعدد دھماکےہوچکےہيں یہ دھماکےبیرونی حکومتوں کےحمایت یافتہ باغیوں نےانجام دیئےہيں لیکن امریکہ، فرانس اورعلاقےمیں ان کےپیروممالک حکومت شام پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کاالزام لگارہے ہيں۔

امریکہ اورعلاقےمیں اس کےیورپی اتحادی شام ميں مداخلت کےلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سےاجازت لینےاورچھاپہ مارباغیوں کےاقدامات کوقانونی حیثیت دینےکی کوشش کررہےہیں۔ لیکن سلامتی کونسل کےدومستقل رکن کی حیثیت سے روس اورچین کی مخالفت نے شام میں امریکہ کی یکطرفہ کاروائیوں کےلئےمشکل کھڑی کردی ہے۔ حکومت شام جو لیبیا میں مغرب کی مداخلت اور نوفلائی زون کی قرارداد اورمغربی حکومتوں کی جانب سے اس سےغلط فائدہ اٹھانے کانتیجہ دیکھ چکی ہے امریکہ اوراس کےیورپی اتحادیوں کوشام میں لیبیاجیساموقع نہيں دیناچاہتی۔

اسی تناظرمیں روس کےوزیرخارجہ سرگئی لاؤروف نے اپنےحالیہ انٹرویومیں اعلان کیاہے کہ مغربی ممالک روس اورچین کی تعاون کےبغیرشام کےبحران کونہیں حل کرسکتے۔ اس موقف سےپتہ چلتاہے کہ روس اورچین کسی بھی طرح شام کےسلسلےمیں اپنےموقف اور اس ملک کےبحران کےسیاسی حل کےموقف سےپیچھے نہيں ہٹناچاہتے۔
.......

/169